Faza Ibn e Faizi's Photo'

فضا ابن فیضی

1923 - 2009 | مئو ناتھ بھنجن, ہندوستان

بے مثل شاعری کے لئے مشہور

بے مثل شاعری کے لئے مشہور

219
Favorite

باعتبار

اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے

ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

وہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا

کس طرح عمر کو جاتے دیکھوں

وقت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے

مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت

خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا

جلا ہے شہر تو کیا کچھ نہ کچھ تو ہے محفوظ

کہیں غبار کہیں روشنی سلامت ہے

اچھا ہوا میں وقت کے محور سے کٹ گیا

قطرہ گہر بنا جو سمندر سے کٹ گیا

غزل کے پردے میں بے پردہ خواہشیں لکھنا

نہ آیا ہم کو برہنہ گزارشیں لکھنا

ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا

کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا

زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکی

آدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا

ہم حسین غزلوں سے پیٹ بھر نہیں سکتے

دولت سخن لے کر بے فراغ ہیں یارو

یوں معانی سے بہت خاص ہے رشتہ اپنا

زندگی کٹ گئی لفظوں کو خبر کرنے میں

وقت نے کس آگ میں اتنا جلایا ہے مجھے

جس قدر روشن تھا میں اس سے سوا روشن ہوا

شخصیت کا یہ توازن تیرا حصہ ہے فضاؔ

جتنی سادہ ہے طبیعت اتنا ہی تیکھا ہنر

خاک شبلیؔ سے خمیر اپنا بھی اٹھا ہے فضاؔ

نام اردو کا ہوا ہے اسی گھر سے اونچا

اب مناسب نہیں ہم عصر غزل کو یارو

کسی بجتی ہوئی پازیب کا گھنگھرو لکھنا

تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھی

میں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا

خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں

ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

کسی لمحے تو خود سے لا تعلق بھی رہو لوگو

مسائل کم نہیں پھر زندگی بھر سوچتے رہنا

دیکھنا ہیں کھیلنے والوں کی چابک دستیاں

تاش کا پتا سہی میرا ہنر تیرا ہنر

کہاں وہ لوگ جو تھے ہر طرف سے نستعلیق

پرانی بات ہوئی چست بندشیں لکھنا

اے فضاؔ اتنی کشادہ کب تھی معنی کی جہت

میرے لفظوں سے افق اک دوسرا روشن ہوا

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ

ایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ

وہ میل جول حسن و بصیرت میں اب کہاں

جو سلسلہ تھا پھول کا پتھر سے کٹ گیا

پلکوں پر اپنی کون مجھے اب سجائے گا

میں ہوں وہ رنگ جو ترے پیکر سے کٹ گیا

تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی

مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا

لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئے

کون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا

نطق سے لب تک ہے صدیوں کا سفر

خامشی یہ دکھ بھلا جھیلے گی کیا

یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون

ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا

ایک دن غرق نہ کر دے تجھے یہ سیل وجود

دیکھ ہو جائے نہ پانی کہیں سر سے اونچا