2.4K
Favorite

باعتبار

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے

مجھ سے دلی کی نہیں دل کی کہانی سنئے

شہر تو یہ بھی کئی بار لٹا ہے مجھ میں

جہاں جہاں کوئی اردو زبان بولتا ہے

وہیں وہیں مرا ہندوستان بولتا ہے

پہلے تو اس کی یاد نے سونے نہیں دیا

پھر اس کی آہٹوں نے کہا جاگتے رہو

اپنی تعریف سنی ہے تو یہ سچ بھی سن لے

تجھ سے اچھا ترا کردار نہیں ہو سکتا

خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ

محفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا

جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بک گئے

ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی

حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے

لگتا ہے جیسے ہم کسی میلے میں کھو گئے

ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں جو سنانا ہیں تمہیں

تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا

خوشبو کا قافلہ یہ بہاروں کا سلسلہ

پہنچا ہے شہر تک تو مرے گھر بھی آئے گا

یہ الگ بات کہ الفاظ ہیں میرے لیکن

سچ تو بس یہ ہے کہ تیری ہی صدا ہے مجھ میں

جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال

جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے

خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں

زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی

شبنم کی جگہ آگ کی بارش ہو مگر ہم

منصورؔ نہ مانگیں گے دعا اور طرح کی