Zubair Ali Tabish's Photo'

زبیر علی تابش

1987 | جلگاؤں, ہندوستان

غزل 10

اشعار 16

آج تو دل کے درد پر ہنس کر

درد کا دل دکھا دیا میں نے

  • شیئر کیجیے

تمہارا صرف ہواؤں پہ شک گیا ہوگا

چراغ خود بھی تو جل جل کے تھک گیا ہوگا

  • شیئر کیجیے

اس کے خط رات بھر یوں پڑھتا ہوں

جیسے کل امتحان ہو میرا

  • شیئر کیجیے

اپنا کنگن سمجھ رہے ہو کیا

اور کتنا گھماؤ گے مجھ کو

  • شیئر کیجیے

وہ جس نے آنکھ عطا کی ہے دیکھنے کے لیے

اسی کو چھوڑ کے سب کچھ دکھائی دیتا ہے

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 2

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا جب اس کی بزم میں دار_و_رسن کی بات چلی میں جھٹ سے اٹھ گیا اور آگے آ کے بیٹھ گیا درخت کاٹ کے جب تھک گیا لکڑ_ہارا تو اک درخت کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا تمہارے در سے میں کب اٹھنا چاہتا تھا مگر یہ میرا دل ہے کہ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا جو میرے واسطے کرسی لگایا کرتا تھا وہ میری کرسی سے کرسی لگا کے بیٹھ گیا پھر اس کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے میں اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا

آج تو دل کے درد پر ہنس کر درد کا دل دکھا دیا میں نے

 

ویڈیو 4

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

زبیر علی تابش

زبیر علی تابش

مرحوم اور محروم

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زبیر علی تابش

مزید دیکھیے

"جلگاؤں" کے مزید شعرا

  • سید خادم رسول عینی سید خادم رسول عینی
  • صابر آفاق صابر آفاق
  • جمیل مصطفیٰ آبادی جمیل مصطفیٰ آبادی