تمام
تعارف
غزل233
شعر396
ای-کتاب907
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 45
آڈیو 82
ویڈیو 323
مرثیہ1
قطعہ28
رباعی34
قصہ18
بلاگ12
دیگر
سہرا3
غیر متداول غزلیں238
قادر نامہ1
قصیدہ10
سلام1
مخمس1
مثنوی3
غیرمتداول اشعار59
خط48
مرزا غالب کی ٹاپ ٢٠ شاعری
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
-
موضوع : ضرب المثل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے رنج کو ایک کیفیتِ دل بنایا ہے کہ بار بار کا دکھ انسان کو پکا کر دیتا ہے۔ جب مصیبتیں مسلسل ملیں تو دل ان سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان کی شدت کم محسوس ہوتی ہے۔ اس شعر کا مرکز وہ حوصلہ ہے جو تکلیف سے گزر کر جنم لیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے رنج کو ایک کیفیتِ دل بنایا ہے کہ بار بار کا دکھ انسان کو پکا کر دیتا ہے۔ جب مصیبتیں مسلسل ملیں تو دل ان سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان کی شدت کم محسوس ہوتی ہے۔ اس شعر کا مرکز وہ حوصلہ ہے جو تکلیف سے گزر کر جنم لیتا ہے۔
-
موضوع : ترغیبی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ غالب دوسروں کی خوبی کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا طرزِ ادا اور بیان کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ غالب دوسروں کی خوبی کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا طرزِ ادا اور بیان کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔
-
موضوع : تعلی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالبؔ نے اپنی شاعرانہ عظمت کے باوجود میر تقی میرؔ کا اعترافِ عظمت کیا ہے۔ وہ عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فنِ شاعری صرف مجھ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مجھ سے پہلے میرؔ جیسا باکمال استاد بھی موجود تھا۔ یہ مقطع میرؔ کے لیے غالبؔ کی طرف سے ایک خوبصورت خراجِ تحسین ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالبؔ نے اپنی شاعرانہ عظمت کے باوجود میر تقی میرؔ کا اعترافِ عظمت کیا ہے۔ وہ عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فنِ شاعری صرف مجھ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مجھ سے پہلے میرؔ جیسا باکمال استاد بھی موجود تھا۔ یہ مقطع میرؔ کے لیے غالبؔ کی طرف سے ایک خوبصورت خراجِ تحسین ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔
Interpretation:
Rekhta AI
غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے اپنی ذات پر طنز کیا ہے کہ وہ کس برتے پر کعبہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اس کا دامن نیکیوں سے خالی ہے۔ یہ شعر انسان کی بے باکی اور گناہوں پر ڈھیٹ بن جانے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطا کار ہونے کے باوجود ندامت محسوس نہیں کرتا۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے اپنی ذات پر طنز کیا ہے کہ وہ کس برتے پر کعبہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اس کا دامن نیکیوں سے خالی ہے۔ یہ شعر انسان کی بے باکی اور گناہوں پر ڈھیٹ بن جانے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطا کار ہونے کے باوجود ندامت محسوس نہیں کرتا۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
EXPLANATION #1
جب کائنات میں کچھ نہیں تھا تو خدا موجود تھا، اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی صرف خدا ہی ہوتا۔
میری ہستی اور میرے الگ وجود نے مجھے برباد کر دیا، اگر میں 'میں' نہ ہوتا تو خدا کا ہی حصہ ہوتا۔
اس شعر میں غالب نے وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا اپنا وجود ہی اس کے اور خدا کے درمیان پردہ ہے۔ اگر وہ الگ وجود نہ رکھتا تو وہ ذاتِ الہٰیہ میں ضم ہوتا، جو کہ انسانی زندگی کی مشکلات سے کہیں بلند مرتبہ ہے۔
شفق سوپوری
EXPLANATION #1
جب کائنات میں کچھ نہیں تھا تو خدا موجود تھا، اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی صرف خدا ہی ہوتا۔
میری ہستی اور میرے الگ وجود نے مجھے برباد کر دیا، اگر میں 'میں' نہ ہوتا تو خدا کا ہی حصہ ہوتا۔
اس شعر میں غالب نے وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا اپنا وجود ہی اس کے اور خدا کے درمیان پردہ ہے۔ اگر وہ الگ وجود نہ رکھتا تو وہ ذاتِ الہٰیہ میں ضم ہوتا، جو کہ انسانی زندگی کی مشکلات سے کہیں بلند مرتبہ ہے۔
شفق سوپوری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
EXPLANATION #1
میرے دل سے پوچھو کہ تمہارے نیم کش تیر نے مجھ پر کیا اثر کیا ہے۔
اگر وہ تیر جگر کے پار ہو جاتا تو یہ چبھتی ہوئی خلش کہاں رہتی۔
غالب محبوب کے ظلم کو ایسے تیر سے تشبیہ دیتے ہیں جو آدھا نکلتا ہے اور آدھا رہ جاتا ہے، اس لیے درد مسلسل چبھتا رہتا ہے۔ جگر کے پار ہو جانا گویا فیصلہ کن زخم ہے، مگر نیم کش ہونا نامکمل زخم کی علامت ہے۔ جذبے کی اصل کیفیت یہ ہے کہ ادھورا وار ہی سب سے زیادہ بے چین کرتا ہے۔
سیف ازہر
EXPLANATION #1
میرے دل سے پوچھو کہ تمہارے نیم کش تیر نے مجھ پر کیا اثر کیا ہے۔
اگر وہ تیر جگر کے پار ہو جاتا تو یہ چبھتی ہوئی خلش کہاں رہتی۔
غالب محبوب کے ظلم کو ایسے تیر سے تشبیہ دیتے ہیں جو آدھا نکلتا ہے اور آدھا رہ جاتا ہے، اس لیے درد مسلسل چبھتا رہتا ہے۔ جگر کے پار ہو جانا گویا فیصلہ کن زخم ہے، مگر نیم کش ہونا نامکمل زخم کی علامت ہے۔ جذبے کی اصل کیفیت یہ ہے کہ ادھورا وار ہی سب سے زیادہ بے چین کرتا ہے۔
سیف ازہر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں فلسفہِ وحدت الوجود اور انسانی نفسیات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذات کی نفی میں ہی ابدی سکون ہے، اور جب غم برداشت سے باہر ہو جائے تو انسان بے حس ہو جاتا ہے، جو بذاتِ خود ایک دوا اور سکون کی صورت ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں فلسفہِ وحدت الوجود اور انسانی نفسیات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذات کی نفی میں ہی ابدی سکون ہے، اور جب غم برداشت سے باہر ہو جائے تو انسان بے حس ہو جاتا ہے، جو بذاتِ خود ایک دوا اور سکون کی صورت ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب یہاں زندگی کی بے ثباتی اور عشق کی دشواریوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معشوق کا دل جیتنے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ عاشق کی عمر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ زلف کے 'سر ہونے' سے مراد معاملات کا حل ہونا ہے، جو کہ ایک مختصر انسانی زندگی میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب یہاں زندگی کی بے ثباتی اور عشق کی دشواریوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معشوق کا دل جیتنے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ عاشق کی عمر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ زلف کے 'سر ہونے' سے مراد معاملات کا حل ہونا ہے، جو کہ ایک مختصر انسانی زندگی میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں تنگ دستی کے باوجود جینے کی ضد اور امید جھلکتی ہے۔ قرض کی مے دراصل مجبوری بھی ہے اور بے نیازی کا دکھاوا بھی، اور “فاقہ مستی” بھوک سے پیدا ہونے والی سی بے خودی/دلیرانہ کیفیت کا استعارہ ہے۔ طنز یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی کو بھی ایک دن “رنگ لانے” والی سرمایہ کاری سمجھ کر سہارا بنا لیتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
EXPLANATION #1
ہر کام کا آسانی سے انجام پا جانا کس قدر مشکل ہے۔
یہاں تک کہ آدمی کے لیے بھی سچا انسان بن جانا سہل نہیں ہے۔
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ کائنات میں سہولت کا فقدان ہے اور ہر کام میں دشواری حائل ہے۔ جس طرح ہر کام آسان نہیں ہوتا، اسی طرح 'آدمی' (جو کہ محض ایک ظاہری صورت ہے) کے لیے 'انسان' (جو کہ اعلیٰ اخلاقی صفات کا مجموعہ ہے) کے مرتبے تک پہنچنا انتہائی کٹھن عمل ہے۔
محمد اعظم
EXPLANATION #1
ہر کام کا آسانی سے انجام پا جانا کس قدر مشکل ہے۔
یہاں تک کہ آدمی کے لیے بھی سچا انسان بن جانا سہل نہیں ہے۔
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ کائنات میں سہولت کا فقدان ہے اور ہر کام میں دشواری حائل ہے۔ جس طرح ہر کام آسان نہیں ہوتا، اسی طرح 'آدمی' (جو کہ محض ایک ظاہری صورت ہے) کے لیے 'انسان' (جو کہ اعلیٰ اخلاقی صفات کا مجموعہ ہے) کے مرتبے تک پہنچنا انتہائی کٹھن عمل ہے۔
محمد اعظم
-
موضوع : انسان
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب دنیا کو “بازیچۂ اطفال” کہہ کر اسے بےمعنی اور ہلکا ثابت کرتے ہیں، جیسے بچوں کا کھیل جس میں گہرائی کم ہو۔ “شب و روز” کی گردش ایک نہ ختم ہونے والے اسٹیج ڈرامے کی طرح لگتی ہے جسے شاعر محض دیکھ رہا ہے۔ جذبہ بیزاری اور بےتعلقی کا ہے: زندگی کی سنجیدگی چھن کر محض تماشہ رہ جاتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب دنیا کو “بازیچۂ اطفال” کہہ کر اسے بےمعنی اور ہلکا ثابت کرتے ہیں، جیسے بچوں کا کھیل جس میں گہرائی کم ہو۔ “شب و روز” کی گردش ایک نہ ختم ہونے والے اسٹیج ڈرامے کی طرح لگتی ہے جسے شاعر محض دیکھ رہا ہے۔ جذبہ بیزاری اور بےتعلقی کا ہے: زندگی کی سنجیدگی چھن کر محض تماشہ رہ جاتی ہے۔
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں واعظ کی ظاہری پرہیزگاری اور باطنی حقیقت پر گہرا طنز کیا ہے۔ شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ واعظ کا مے خانے سے کیا کام، لیکن ساتھ ہی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ چھپ کر وہاں آتے ہیں۔ اس طرح غالب نے اپنی رندی کا اعتراف کرتے ہوئے واعظ کی ریاکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں واعظ کی ظاہری پرہیزگاری اور باطنی حقیقت پر گہرا طنز کیا ہے۔ شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ واعظ کا مے خانے سے کیا کام، لیکن ساتھ ہی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ چھپ کر وہاں آتے ہیں۔ اس طرح غالب نے اپنی رندی کا اعتراف کرتے ہوئے واعظ کی ریاکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ اگر میں ٹھیک ہو جاتا تو مجھے مسیحا یا دوا کا احسان مند ہونا پڑتا جو میری خود داری کے خلاف تھا۔ اس لیے میرا علاج نہ ہونا اور درد کا باقی رہنا ہی میرے حق میں بہتر ثابت ہوا کہ میں کسی کا زیرِ بار نہیں ہوا۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ اگر میں ٹھیک ہو جاتا تو مجھے مسیحا یا دوا کا احسان مند ہونا پڑتا جو میری خود داری کے خلاف تھا۔ اس لیے میرا علاج نہ ہونا اور درد کا باقی رہنا ہی میرے حق میں بہتر ثابت ہوا کہ میں کسی کا زیرِ بار نہیں ہوا۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ