Akhtar Shirani's Photo'

اختر شیرانی

1905 - 1948 | لاہور, پاکستان

مقبول ترین اردو شاعروں میں شامل ، شدید رومانی شاعری کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں شامل ، شدید رومانی شاعری کے لئے مشہور

غزل 53

نظم 17

اشعار 50

غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ

یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

  • شیئر کیجیے

رباعی 3

 

قطعہ 1

 

مزاحیہ 1

 

ای- کتاب 29

ادبستان

 

1930

اختر شیرانی

 

1991

اخترشیرانی

انتخاب کلام اخترشیرانی

1956

اختر شیرانی اور اس کی شاعری

 

1964

اختر شیرانی: انتخاب کلام

 

1959

اخترستان

 

1946

انتخاب کلام اختر شیرانی

 

1959

انتخاب کلام اختر شیرانی

 

 

جوامع الحکایات و لوامع الرویات

جلد۔001

1943

جوامع الحکایات و لوامع الروایات

حصہ.002

1943

تصویری شاعری 8

او دیس سے آنے والا ہے بتا او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران_وطن آوارۂ_غربت کو بھی سنا کس رنگ میں ہے کنعان_وطن وہ باغ_وطن فردوس_وطن وہ سرو_وطن ریحان_وطن او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں مستانہ ہوائیں آتی ہیں کیا اب بھی وہاں کے پربت پر گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی سرمست نظارے ہوتے ہیں کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے کیا اب وہی سارے ہوتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی شفق کے سایوں میں دن رات کے دامن ملتے ہیں کیا اب بھی چمن میں ویسے ہی خوش_رنگ شگوفے کھلتے ہیں برساتی ہوا کی لہروں سے بھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا شاداب_و_شگفتہ پھولوں سے معمور ہیں گل_زار اب کہ نہیں بازار میں مالن لاتی ہے پھولوں کے گندھے ہار اب کہ نہیں اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں نوعمر خریدار اب کہ نہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا شام پڑے گلیوں میں وہی دلچسپ اندھیرا ہوتا ہے اور سڑکوں کی دھندلی شمعوں پر سایوں کا بسیرا ہوتا ہے باغوں کی گھنیری شاخوں میں جس طرح سویرا ہوتا ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں اور مدھ_بھری راتیں ہوتی ہیں کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں وہ حسن کے جادو چلتے ہیں وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا میرانیوں کے آغوش میں ہے آباد وہ بازار اب کہ نہیں تلواریں بغل میں دابے ہوئے پھرتے ہیں طرحدار اب کہ نہیں اور بہلیوں میں سے جھانکتے ہیں ترکان_سیہ_کار اب کہ نہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی مہکتے مندر سے ناقوس کی آواز آتی ہے کیا اب بھی مقدس مسجد پر مستانہ اذاں تھراتی ہے اور شام کے رنگیں سایوں پر عظمت کی جھلک چھا جاتی ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والا بتا کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر پنہاریاں پانی بھرتی ہیں انگڑائی کا نقشہ بن بن کر سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں اور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا برسات کے موسم اب بھی وہاں ویسے ہی سہانے ہوتے ہیں کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں جھولے اور گانے ہوتے ہیں اور دور کہیں کچھ دیکھتے ہی نوعمر دیوانے ہوتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی پہاڑی چوٹیوں پر برسات کے بادل چھاتے ہیں کیا اب بھی ہوائے_ساحل کے وہ رس بھرے جھونکے آتے ہیں اور سب سے اونچی ٹیکری پر لوگ اب بھی ترانے گاتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں برکھا کی ہوائیں گونجتی ہیں جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں موروں کی صدائیں گونجتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی برسات کا جوبن ہوتا ہے پھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے امڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں چھایا ہوا ساون ہوتا ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواں دریائے_حسیں لہرائے ہوئے جوں گود میں اپنے من کو لیے ناگن ہو کوئی تھرائے ہوئے یا نور کی ہنسلی حور کی گردن میں ہو عیاں بل کھائے ہوئے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی فضا کے دامن میں برکھا کے سمے لہراتے ہیں کیا اب بھی کنار_دریا پر طوفان کے جھونکے آتے ہیں کیا اب بھی اندھیری راتوں میں ملاح ترانے گاتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں برسات کے دن باغوں میں بہاریں آتی ہیں معصوم و حسیں دوشیزائیں برکھا کے ترانے گاتی ہیں اور تیتریوں کی طرح سے رنگیں جھولوں پر لہراتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی افق کے سینے پر شاداب گھٹائیں جھومتی ہیں دریا کے کنارے باغوں میں مستانہ ہوائیں جھومتی ہیں اور ان کے نشیلے جھونکوں سے خاموش فضائیں جھومتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں احباب کنار_دریا پر وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں شاداب کنار_دریا پر اور پیار سے آ کر جھانکتا ہے مہتاب کنار_دریا پر او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا آم کے اونچے پیڑوں پر اب بھی وہ پپیہے بولتے ہیں شاخوں کے حریری پردوں میں نغموں کے خزانے گھولتے ہیں ساون کے رسیلے گیتوں سے تالاب میں امرس گھولتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا پہلی سی ہے معصوم ابھی وہ مدرسے کی شاداب فضا کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں جس میں وہ مثال_خواب فضا وہ کھیل وہ ہم_سن وہ میداں وہ خواب_گہہ_مہتاب فضا او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ بتا کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی آہ بتا او دیس سے آنے والے بتا للہ بتا للہ بتا او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا ہم کو وطن کے باغوں کی مستانہ فضائیں بھول گئیں برکھا کی بہاریں بھول گئیں ساون کی گھٹائیں بھول گئیں دریا کے کنارے بھول گئے جنگل کی ہوائیں بھول گئیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا گاؤں میں اب بھی ویسی ہی مستی_بھری راتیں آتی ہیں دیہات کی کمسن ماہ_وشیں تالاب کی جانب جاتی ہیں اور چاند کی سادہ روشنی میں رنگین ترانے گاتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی گجردم چرواہے ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں اور شام کے دھندلے سایوں کے ہم_راہ گھروں کو آتے ہیں اور اپنی رسیلی بانسریوں میں عشق کے نغمے گاتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں برکھا کی بہاریں چھاتی ہیں معصوم گھروں سے بھور_بھئے چکی کی صدائیں آتی ہیں اور یاد میں اپنے میکے کی بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا دریا کا وہ خواب_آلودہ سا گھاٹ اور اس کی فضائیں کیسی ہیں وہ گاؤں وہ منظر وہ تالاب اور اس کی ہوائیں کیسی ہیں وہ کھیت وہ جنگل وہ چڑیاں اور ان کی صدائیں کیسی ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر تاریخ کی عبرت طاری ہے ان_پورنا کے اجڑے مندر پر مایوسی_و_حسرت طاری ہے سنسان گھروں پر چھاؤنی کے ویرانی و رقت طاری ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا وہ غارت_ایماں کیسی ہے بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی وہ آفت_دوراں کیسی ہے ہم دونوں تھے جس کے پروانے وہ شمع_شبستاں کیسی ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا مرجانا تھا جس کا نام بتا وہ غنچہ_دہن کس حال میں ہے جس پر تھے فدا طفلان_وطن وہ جان_وطن کس حال میں ہے وہ سرو_چمن وہ رشک_سمن وہ سیم_بدن کس حال میں ہے او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی رخ_گلرنگ پہ وہ جنت کے نظارے روشن ہیں کیا اب بھی رسیلی آنکھوں میں ساون کے ستارے روشن ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی شہابی عارض پر گیسوئے_سیہ بل کھاتے ہیں یا بحر_شفق کی موجوں پر دو ناگ پڑے لہراتے ہیں اور جن کی جھلک سے ساون کی راتوں کے سپنے آتے ہیں او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا اب نام_خدا ہوگی وہ جواں میکے میں ہے یا سسرال گئی دوشیزہ ہے یا آفت میں اسے کمبخت جوانی ڈال گئی گھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی خوش_حال رہی خوش_حال گئی او دیس سے آنے والے بتا

 

ویڈیو 18

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر ویڈیو
Ai ishq hamen barbad na kar

ملکہ پکھراج

Ai Ishq Humhein Barbad na Kar

نیرہ نور

Bhulaoge bahut lekin tumhen ham yaad

منی بیگم

Har ek jalwa e rangeen meri nigah mein hai

طاہرہ سید

او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والا ہے بتا عابدہ پروین

او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والا ہے بتا ناصر جہاں

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر نیرہ نور

مری شام_غم کو وہ بہلا رہے ہیں

ملکہ پکھراج

میں آرزوئے_جاں لکھوں یا جان_آرزو!

نامعلوم

نکہت_زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

ملکہ پکھراج

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

غلام علی

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

فریدہ خانم

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

طاہرہ سید

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

اقبال بانو

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

حبیب ولی محمد

ہر ایک جلوۂ_رنگیں مری نگاہ میں ہے

نامعلوم

آڈیو 10

میں آرزوئے_جاں لکھوں یا جان_آرزو!

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

شعرا متعلقہ

  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • سید محمد جعفری سید محمد جعفری ہم عصر
  • بسمل سعیدی بسمل سعیدی ہم عصر
  • جمیلؔ مظہری جمیلؔ مظہری ہم عصر
  • ماہر القادری ماہر القادری ہم عصر

شعرا کے مزید "لاہور"

  • حفیظ جالندھری حفیظ جالندھری
  • قتیل شفائی قتیل شفائی
  • منیر نیازی منیر نیازی
  • ناصر کاظمی ناصر کاظمی
  • حبیب جالب حبیب جالب
  • ظفر اقبال ظفر اقبال
  • محمد حسین آزاد محمد حسین آزاد
  • محمد حنیف رامے محمد حنیف رامے
  • سید عابد علی عابد سید عابد علی عابد
  • چراغ حسن حسرت چراغ حسن حسرت

Added to your favorites

Removed from your favorites