Khaleel Mamoon's Photo'

خلیل مامون

1949 | بنگلور, ہندوستان

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

ممتاز شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

154
Favorite

باعتبار

ہر ایک کام ہے دھوکہ ہر ایک کام ہے کھیل

کہ زندگی میں تماشا بہت ضروری ہے

ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو

اندھیاری رات میں کوئی مہتاب ہی نہ ہو

ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا

یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو

شاید اپنا پتہ بھی مل جائے

جھانکتا ہوں تری نگاہوں میں

میری طرح سے یہ بھی ستایا ہوا ہے کیا

کیوں اتنے داغ دکھتے ہیں مہتاب میں ابھی

مجھے پہنچنا ہے بس اپنے آپ کی حد تک

میں اپنی ذات کو منزل بنا کے چلتا ہوں

تیری کیا یہ حالت ہو گئی ہے مامونؔ

خود ہی کہہ رہا ہے خود ہی سن رہا ہے

دل میں امنگ اور ارادہ کوئی تو ہو

بے کیف زندگی میں تماشا کوئی تو ہو

درد کے سہارے کب تلک چلیں گے

سانس رک رہی ہے فاصلہ بڑا ہے

جنگلوں میں کہیں کھو جانا ہے

جانور پھر مجھے ہو جانا ہے

تم نہیں آؤ گے خبر ہے ہمیں

پھر بھی ہم انتظار کر لیں گے

صرف چہرہ ہی نظر آتا ہے آئینہ میں

عکس آئینہ نہیں دکھتا ہے آئینہ میں

فتح کے جشن میں ہیں سب سرشار

میں تو اپنی ہی مات میں گم ہوں

مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے

میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں

چلنا لکھا ہے اپنے مقدر میں عمر بھر

منزل ہماری درد کی راہوں میں گم ہوئی

لفظوں کا خزانہ بھی کبھی کام نہ آئے

بیٹھے رہیں لکھنے کو ترا نام نہ آئے

تم ہو کھوئے ہوئے زمانے میں

میں خود اپنی ہی ذات میں گم ہوں

مجھے تو عشق ہے پھولوں میں صرف خوشبو سے

بلا رہی ہے کسی لالہ کی مہک مجھ کو

مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو

خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو

ہر ایک جگہ بھٹکتے پھریں گے ساری عمر

بالآخر اپنے ہی گھر جائیں گے کسی دن ہم

سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں

اندازہ نہیں ہوتا ہے اب چہروں کا

میں منزلوں سے بہت دور آ گیا مامونؔ

سفر نے کھو دیے سارے نشاں تمہاری طرف

وہ برائی سب سے میری کر رہے ہیں

کیوں نہیں کرتے بیاں اچھائیوں کو

جو نور بھرتے تھے ظلمات شب کے صحرا میں

وہ چاند تارے فلک سے اتر گئے شاید

رفتار روز و شب سے کہاں تک نبھاؤں گا

تھک ہار کر میں گھر کی طرف لوٹ جاؤں گا

جواب ڈھونڈ کے سارے جہاں سے جب لوٹے

ہمیں تو کر گیا یک لخت لا جواب کوئی

ہزاروں چاند ستارے چمک گئے ہوتے

کبھی نظر جو تری مائل کرم ہوتی