Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

منیر  شکوہ آبادی

1814 - 1880 | رام پور, انڈیا

معروف کلاسیکی شاعر جنہونے 1857 کے غدر میں حصّہ لیا

معروف کلاسیکی شاعر جنہونے 1857 کے غدر میں حصّہ لیا

منیر  شکوہ آبادی کے اشعار

6.3K
Favorite

باعتبار

آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطے

دو کشتیاں ملی ہیں ڈبونے کے واسطے

سرخی شفق کی زرد ہو گالوں کے سامنے

پانی بھرے گھٹا ترے بالوں کے سامنے

جاتی ہے دور بات نکل کر زبان سے

پھرتا نہیں وہ تیر جو نکلا کمان سے

بوسہ ہونٹوں کا مل گیا کس کو

دل میں کچھ آج درد میٹھا ہے

احسان نہیں خواب میں آئے جو مرے پاس

چوری کی ملاقات ملاقات نہیں ہے

استاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج

کی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات

نماز شکر کی پڑھتا ہے جام توڑ کے شیخ

وضو کے واسطے لیتا ہے آبروئے شراب

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ

کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

دیکھا ہے عاشقوں نے برہمن کی آنکھ سے

ہر بت خدا ہے چاہنے والوں کے سامنے

دیدار کا مزا نہیں بال اپنے باندھ لو

کچھ مجھ کو سوجھتا نہیں اندھیاری رات ہے

بوسے ہیں بے حساب ہر دن کے

وعدے کیوں ٹالتے ہو گن گن کے

اے رشک ماہ رات کو مٹھی نہ کھولنا

مہدی کا چور ہاتھ سے جائے نہ چھوٹ کے

کبھی پیام نہ بھیجا بتوں نے میرے پاس

خدا ہیں کیسے کہ پیغامبر نہیں رکھتے

زاہدو پوجا تمہاری خوب ہوگی حشر میں

بت بنا دے گی تمہیں یہ حق پرستی ایک دن

منہ تک بھی ضعف سے نہیں آ سکتی دل کی بات

دروازہ گھر سے سیکڑوں فرسنگ ہو گیا

کی ترک میں نے شیخ و برہمن کی پیروی

دیر و حرم میں مجھ کو ترا نام لے گیا

ہم رنگ کی ہے دون نکل اشرفی کے ساتھ

پاتا ہے آ کے رنگ طلائی یہاں بسنت

بوسۂ لب غیر کو دیتے ہو تم

منہ مرا میٹھا کیا جاتا نہیں

اے بت یہ ہے نماز کہ ہے گھات قتل کی

نیت ادا کی ہے کہ اشارے قضا کے ہیں

آنکھوں میں نہیں سلسلۂ اشک شب و روز

تسبیح پڑھا کرتے ہیں دن رات تمہاری

میں جستجو سے کفر میں پہنچا خدا کے پاس

کعبہ تک ان بتوں کا مجھے نام لے گیا

گرمیٔ حسن کی مدحت کا صلا لیتے ہیں

مشعلیں آپ کے سائے سے جلا لیتے ہیں

اس بت کے نہانے سے ہوا صاف یہ پانی

موتی بھی صدف میں تہہ دریا نظر آیا

چہرہ تمام سرخ ہے محرم کے رنگ سے

انگیا کا پان دیکھ کے منہ لال ہو گیا

شیخ لے ہے راہ کعبے کی برہمن دیر کی

عشق کا رستہ جدا ہے کفر اور اسلام سے

شبنم کی ہے انگیا تلے انگیا کی پسینہ

کیا لطف ہے شبنم تہ شبنم نظر آئی

جان دیتا ہوں مگر آتی نہیں

موت کو بھی ناز معشوقانہ ہے

پایا طبیب نے جو تری زلف کا مریض

شامل دوا میں مشک شب تار کر دیا

جان کر اس بت کا گھر کعبہ کو سجدہ کر لیا

اے برہمن مجھ کو بیت اللہ نے دھوکا دیا

کھاتے ہیں انگور پیتے ہیں شراب

بس یہی مستوں کا آب و دانہ ہے

شکر ہے جامہ سے باہر وہ ہوا غصہ میں

جو کہ پردے میں بھی عریاں نہ ہوا تھا سو ہوا

الجھا ہے مگر زلف میں تقریر کا لچھا

سلجھی ہوئی ہم نے نہ سنی بات تمہاری

ہجر جاناں کے الم میں ہم فرشتے بن گئے

دھیان مدت سے چھٹا آب طعام و خواب کا

آتے نہیں ہیں دیدہ گریاں کے سامنے

بادل بھی کرتے ہیں مری برسات کا لحاظ

کب پان رقیبوں کو عنایت نہیں ہوتے

کس روز مرے قتل کا بیڑا نہیں اٹھتا

تشریح

یہ شعر اپنے تلازمات کی وجہ سے کافی دلچسپ ہے۔ مضمون روایتی ہے مگر طرزِ بیان نے اس میں جان ڈال دی ہے۔ پان اور بیڑا ہم معنی ہیں۔ مگر شاعر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پان کی مناسبت سے بیڑا اٹھانا استعمال کرکے شعر میں لطف کا عنصر ڈال دیا ہے۔ بیڑا اٹھانا محاورہ ہے جس کے معنی ذمہ لینا، عہد لینا، آمادہ ہونا اور مستعد ہونا ہے۔ مضمون اس شعر کا یہ ہے کہ شاعر کا محبوب اس کے رقیبوں پر مہربان ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے جس کی وجہ سے شاعر کو یہ احساس ہوتا ہے دراصل ایسا کرکے اس کا محبوب اسے قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس شعر میں عشق میں رقابت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی عاشق کی جلن بھی ہے اور محبوب کی عاشق کے تئیں بےاعتنائی بھی۔ یعنی شعری کردار اس بات پر شاکی ہے کہ اس کا محبوب اس کے رقیبوں کی طرف ملتفت ہوکر انہیں پان عنایت کرتا ہے اور ایسا کرکے جیسے اس نے اپنے عاشق کو قتل کرنے کا عہد کیا ہے۔

شفق سوپوری

بے علم شاعروں کا گلہ کیا ہے اے منیرؔ

ہے اہل علم کو ترا طرز بیاں پسند

جب بڑھ گئی عمر گھٹ گئی زیست

جو حد سے زیادہ ہو وہ کم ہے

بسملوں سے بوسۂ لب کا جو وعدہ ہو گیا

خود بہ خود ہر زخم کا انگور میٹھا ہو گیا

لگ گئی آگ آتش رخ سے نقاب یار میں

دیکھ لو جلتا ہے کونا چادر مہتاب کا

وہاں پہنچ نہیں سکتیں تمہاری زلفیں بھی

ہمارے دست طلب کی جہاں رسائی ہے

فرض ہے دریا دلوں پر خاکساروں کی مدد

فرش صحرا کے لئے لازم ہوا سیلاب کا

یاد اس بت کی نمازوں میں جو آئی مجھ کو

تپش شوق سے ہر بار میں بیٹھا اٹھا

یا رب ہزار سال سلامت رہیں حضور

ہو روز جشن عید یہاں جاوداں بسنت

مستوں میں پھوٹ پڑ گئی آتے ہی یار کے

لڑتا ہے آج شیشہ سے شیشہ شراب کا

عاشق بنا کے ہم کو جلاتے ہیں شمع رو

پروانہ چاہئے انہیں پروانہ چاہئے

کس طرح خوش ہوں شام کو وہ چاند دیکھ کر

آتا نہیں ہے مشعل مہ کا دھواں پسند

رندوں کو پابندیٔ دنیا کہاں

کشتیٔ مے کو نہیں لنگر کی چاہ

لیٹے جو ساتھ ہاتھ لگا بوسۂ دہن

آیا عمل میں علم نہانی پلنگ پر

بھٹکے پھرے دو عملۂ دیر و حرم میں ہم

اس سمت کفر اس طرف اسلام لے گیا

اختلاط اپنے عناصر میں نہیں

جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے