Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دعا پر اشعار

اردو شاعری کا ایک کمال

یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سی ایسی لفظیات جو خالص مذہبی تناظر سے جڑی ہوئی تھیں نئے رنگ اور روپ کے ساتھ برتی گئی ہیں اور اس برتاؤ میں ان کے سابقہ تناظر کی سنجیدگی کی جگہ شگفتگی ، کھلے پن ، اور ذرا سی بذلہ سنجی نے لے لی ہے ۔ دعا کا لفظ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے ۔ آپ اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک عاشق معشوق کے وصال کی دعائیں کرتا ہے ، اس کی دعائیں کس طرح بے اثر ہیں ۔ کبھی وہ عشق سے تنگ آکر ترک عشق کی دعا کرتا ہے لیکن جب دل ہی نہ چاہے تو دعا میں اثر کہاں ۔ اس طرح کی اور بہت سی پرلطف صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

زمانے کی نگاہ میں اب حیا کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔

خدا کرے تمہاری جوانی داغ سے پاک اور صاف رہے۔

شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔

علامہ اقبال

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

منور رانا

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جلیل مانک پوری

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے

ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے

خلیل تنویر

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

منور رانا

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

جسے عشق کا روگ لگ جائے، اسے دنیا کی کوئی اور بات یاد نہیں رہتی۔

اسے اپنی شفا کے لیے نہ تو دوا کا خیال رہتا ہے اور نہ ہی وہ دعا مانگنا یاد رکھتا ہے۔

اس شعر میں ذوقؔ محبت کی وارفتگی اور محویت کو بیان کرتے ہیں کہ عشق انسان کو ہر تدبیر سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کے علاج کے لیے نہ ظاہری اسباب (دوا) کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی وہ روحانی سہارے (دعا) کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل

میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی

ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

احمد فراز

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے

عبید اللہ علیم

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

الطاف حسین حالی

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

حفیظ جالندھری

مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

امیر مینائی

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل

دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

اگر تم ہزار بار بھی مانگو تو اس سے آخر کیا بنے گا؟

اصل دعا وہی ہے جو بے ساختہ دل کی گہرائی سے نکلے۔

اس شعر میں کہا گیا ہے کہ صرف بار بار مانگنے سے بات نہیں بنتی۔ دعا کی تاثیر تعداد میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے؛ وہی دعا سچی ہے جو بناوٹ کے بغیر دل سے اٹھے۔ یہاں دل کو معیارِ صداقت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ عبادت اور طلب میں سچّا جذبہ ضروری ہے۔

داغؔ دہلوی

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

اب سے ہم محبوب کے ہجر کی دعا مانگا کریں گے۔

آخرکار دعا کی قبولیت اور ہماری چاہت میں گویا دشمنی ہے۔

شاعر ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ جب دعا کا اثر اکثر الٹا نکلتا ہے تو بہتر ہے ہجر ہی مانگ لیا جائے۔ یہاں “دشمنی” سے مراد یہ احساس ہے کہ تقدیر/قبولیت انسان کی مراد کے خلاف جا کھڑی ہوتی ہے۔ مرکزی کیفیت بے بسی اور دل شکستگی ہے جسے شاعر الٹی دعا کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

مومن خاں مومن

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

افتخار عارف

آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ

کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

احمد ندیم قاسمی

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

نامعلوم

تم سلامت رہو قیامت تک

اور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ

شاد عارفی

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

محمد علی ساحل

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

نظیر باقری

وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے

تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو

بشیر بدر

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

جاں نثار اختر

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت

جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

افتخار عارف

میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی

کوئی آہٹ نہ ہو در پر مرے جب تو آئے

بشیر بدر

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

افتخار عارف

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے

اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے

بشیر بدر

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست

لیکن خدا کرے، وہ ترا جلوہ گاہ ہو

جنت کی شان میں جو بھی تعریفیں سنی جاتی ہیں، وہ سب بالکل بجا اور درست ہیں۔

لیکن خدا کرے کہ وہ جنت تیرے دیدار اور جلوہ گری کا مقام بن جائے۔

شاعر جنت کی لطافتوں اور نعمتوں کا انکار نہیں کرتا، مگر اپنی خواہش کو مقدم رکھتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عاشق کے لیے جنت کی اہمیت حور و قصور سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ وہاں محبوب (خدا یا مجازی محبوب) کا جلوہ نظر آئے، ورنہ جنت بھی ویران ہے۔

مرزا غالب

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

ساغر صدیقی

باقی ہی کیا رہا ہے تجھے مانگنے کے بعد

بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم

عامر عثمانی

نہ چارہ گر کی ضرورت نہ کچھ دوا کی ہے

دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

راجیندر کرشن

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

افتخار عارف

کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی

زمین تیری خدا موتیوں سے نم کر دے

بشیر بدر

غم دل اب کسی کے بس کا نہیں

کیا دوا کیا دعا کرے کوئی

ہادی مچھلی شہری
  • موضوعات : دل
    اور 1 مزید

گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوگی

گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

لیاقت علی عاصم

نہ جانے کون سی منزل پہ عشق آ پہونچا

دعا بھی کام نہ آئے کوئی دوا نہ لگے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری

دشمن جاں ہی سہی دوست سمجھتا ہوں اسے

بد دعا جس کی مجھے بن کے دعا لگتی ہے

مرتضیٰ برلاس

ہائے کوئی دوا کرو ہائے کوئی دعا کرو

ہائے جگر میں درد ہے ہائے جگر کو کیا کروں

حفیظ جالندھری

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت

ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

آفتاب حسین

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

افتخار عارف

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

افتخار عارف

کون دیتا ہے محبت کو پرستش کا مقام

تم یہ انصاف سے سوچو تو دعا دو ہم کو

احسان دانش کاندھلوی

مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا

جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو خوش رہو

فاضل جمیلی

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

کہ مجھے شکوۂ کوتاہیٔ داماں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

اک تیری تمنا نے کچھ ایسا نوازا ہے

مانگی ہی نہیں جاتی اب کوئی دعا ہم سے

اعجاز کم راوی

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی

لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

یگانہ چنگیزی

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

حفیظ بنارسی
بولیے