Zeb Ghauri's Photo'

زیب غوری

1928 - 1985 | کانپور, ہندوستان

ہندوستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

ہندوستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

1.6K
Favorite

باعتبار

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

ادھوری چھوڑ کے تصویر مر گیا وہ زیبؔ

کوئی بھی رنگ میسر نہ تھا لہو کے سوا

جتنا دیکھو اسے تھکتی نہیں آنکھیں ورنہ

ختم ہو جاتا ہے ہر حسن کہانی کی طرح

زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا

اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا

گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں

چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا

دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا

شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ہو

چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا

دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں

میں پیمبر ترا نہیں لیکن

مجھ سے بھی بات کر خدا میرے

مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا

نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا

اندر اندر کھوکھلے ہو جاتے ہیں گھر

جب دیواروں میں پانی بھر جاتا ہے

میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے

لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی

ٹوٹتی رہتی ہے کچے دھاگے سی نیند

آنکھوں کو ٹھنڈک خوابوں کو گرانی دے

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے

میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے

دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکن

سچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی

چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا

دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی

دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے

دیکھا ہے مجھ کو کھڑکی سے پھر سر نکال کے

اس کی راہوں میں پڑا میں بھی ہوں کب سے لیکن

بھول جاتا ہوں اسے یاد دلانے کے لیے

مجھ سے بچھڑ کر ہوگا سمندر بھی بے چین

رات ڈھلے تو کرتا ہوگا شور بہت

وہ میرے سامنے خنجر بکف کھڑا تھا زیبؔ

میں دیکھتا رہا اس کو کہ بے نقاب تھا وہ

دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا

کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے

یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے

وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا

نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتا ہوں

تو کوئی اور مرے رو بہ رو نکلتا ہے

کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار

پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے

اب مجھ سے یہ دنیا مرا سر مانگ رہی ہے

کمبخت مرے آگے سوالی ہی رہے گی

جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے

جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے

بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز

ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا

کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں

دھوپ روکے ہے مرا چاہنے والا کیسا

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا

لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

دیکھ کبھی آ کر یہ لا محدود فضا

تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ

اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

زیبؔ مجھے ڈر لگنے لگا ہے اپنے خوابوں سے

جاگتے جاگتے درد رہا کرتا ہے مرے سر میں

یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں

ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا

کہیں پتہ نہ لگا پھر وجود کا میرے

اٹھا کے لے گئی دنیا شکار کس کا تھا

میں تو چاک پہ کوزہ گر کے ہاتھ کی مٹی ہوں

اب یہ مٹی دیکھ کھلونا کیسے بنتی ہے

اب تک تو کسی غیر کا احساں نہیں مجھ پر

قاتل بھی کوئی چاہنے والی ہی رہے گی

ڈھونڈھتی پھرتی ہیں جانے مری نظریں کس کو

ایسی بستی میں جہاں کوئی بھی آباد نہیں

اڑا کے خاک بہت میں نے دیکھ لی اے زیبؔ

وہاں تلک تو کوئی راستہ نہیں جاتا

کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی

کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے

اور بھی گہری ہو جاتی ہے اس کی سرگوشی

مجھ سے کسی کی آنکھوں کی جب باتیں کرتا ہے

میں نے بیتابانہ بڑھ کر دشت میں آواز دی

جب غبار اٹھا کسی دیوانے کا دھوکا ہوا

طوفاں میں ناؤ آئی تو کیا سمت کیا نشاں

کچھ دیر میں رہا نہ ہوا کا شمار بھی

زیبؔ اب زد میں جو آ جائے وہ دل ہو کہ نگاہ

اس کی رفتار ہے چلتے ہوئے جادو کی طرح

کم روشن اک خواب آئینہ اک پیلا مرجھایا پھول

پس منظر کے سناٹے میں ایک ندی پتھریلی سی

پھر ایک نقش کا نیرنگ زیبؔ بکھرے گا

مرے غبار کو پھر اس نے پیچ و تاب دیا

تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا

پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی

جگمگاتا ہوا خنجر مرے سینے میں اتار

روشنی لے کے کبھی خانۂ ویران میں آ

شعر تو مجھ سے تیری آنکھیں کہلا لیتی ہیں

چپ رہتا ہوں میں جب تک تحریک نہیں ہوتی

میں تشنہ تھا مجھے سر چشمۂ سراب دیا

تھکے بدن کو مرے پتھروں میں داب دیا

لہو میں تیرتا پھرتا ہے میرا خستہ بدن

میں ڈوب جاؤں تو زخموں کو دیکھے بھالے کون