Muztar Khairabadi's Photo'

مضطر خیرآبادی

1865 - 1927 | گوالیار, ہندوستان

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

14.3K
Favorite

باعتبار

وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

مصیبت اور لمبی زندگانی

بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

all these worldly troubles and longevity

blessings of the elders is the death of me

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت

کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

whether my sins are greater of your mercy pray?

My lord take account and tell me this today

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں

بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو

ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے

کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

بوسے اپنے عارض گلفام کے

لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا

بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا

اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

وقت آرام کا نہیں ملتا

کام بھی کام کا نہیں ملتا

اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے

خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے

یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو

کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ

وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو

اپنا قصہ تمام کرنا تھا

آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر

چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں

گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

آئنہ دیکھ کر غرور فضول

بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

حال اس نے ہمارا پوچھا ہے

پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے

اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا

مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا

بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

That I would get a goblet it was'nt my fate

now even the whiff of wine does'nt permeate

ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں

ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا

تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا

آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں

اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں

دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں

ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو

خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول

میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

حال دل اغیار سے کہنا پڑا

گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا

میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو

تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم

کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے

تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں

جو مرے درد کی دوا نہ کرے

جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے

یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں

ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں

تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے

دل کے اندر قیام ہے تیرا

عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن

آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

تیری رحمت کا نام سن سن کر

مبتلا ہو گیا گناہوں میں

ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے

کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں