Qateel Shifai's Photo'

قتیل شفائی

1919 - 2001 | لاہور, پاکستان

مقبول ترین شاعروں میں شامل۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ اپنی غزل ’گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں‘ کے لئے مشہور

مقبول ترین شاعروں میں شامل۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ اپنی غزل ’گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں‘ کے لئے مشہور

قتیل شفائی کی اشعار

31.9K
Favorite

باعتبار

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی

وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن

دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں

لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

ہم اسے یاد بہت آئیں گے

جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں

خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو

اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب

دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا

زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ

اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم

دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں

میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام

دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر

یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

حالات سے خوف کھا رہا ہوں

شیشے کے محل بنا رہا ہوں

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ

تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح

پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج

بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا

نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے

اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا

قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ

ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا

جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ

پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ

مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو

جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام

کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی

تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی

تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا

اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے

ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ

مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے