آنکھ پر شاعری

آنکھ انسانی جسم کا مرکزی حصہ ہے ۔ اس عضو کی افادیت صرف دیکھنے کی حد تک ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی اس کے متنوع اور رنگا رنگ کردار ہیں ۔ عشق کے بیانیے میں یہ کردار اور زیادہ دلچسپ ہوجاتے ہیں ۔ شاعروں نے محبوب کی آنکھوں اور ان کی خوبصورتی کو نئے نئے ڈھنگ سے باندھا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور آنکھوں کی مخمور کر دینے والی کیفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

منور رانا

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

جاں نثاراختر

تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں

ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

جگر مراد آبادی

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

منور رانا

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن

زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

جگر مراد آبادی

آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو

نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے

جاں نثاراختر

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے

وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں

اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

بشیر بدر

پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے

دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے

نامعلوم

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے

فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

خمارؔ بارہ بنکوی

شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا

آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا

بشیر بدر

اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو

مندروں میں چراغ جلتے ہیں

بشیر بدر

اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں

آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے

ناصر کاظمی

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب

وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

show me not your anger dear show me your youthful prime

the wealth that you have covered up is truly sublime

show me not your anger dear show me your youthful prime

the wealth that you have covered up is truly sublime

امیر مینائی

حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو

یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے

جگر مراد آبادی

لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں

اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا

اختر ہوشیارپوری

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

اختر شیرانی

آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے

لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

جلیل مانک پوری

اک حسیں آنکھ کے اشارے پر

قافلے راہ بھول جاتے ہیں

عبد الحمید عدم

جب ترے نین مسکراتے ہیں

زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

عبد الحمید عدم

لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے

ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو

لالہ مادھو رام جوہر

ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا

اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے

اختر انصاری

کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جام

آج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں

جگر مراد آبادی

بزدلی ہوگی چراغوں کو دکھانا آنکھیں

ابر چھٹ جائے تو سورج سے ملانا آنکھیں

would be cowardice to stare down at the flame

let the clouds disperse then look upon the sun

would be cowardice to stare down at the flame

let the clouds disperse then look upon the sun

شکیل بدایونی

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں

تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

عادل منصوری

آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی

دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے

اسرار الحق مجاز

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار

کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

جلیل مانک پوری

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے

کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

امداد علی بحر

میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے

کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے

جلیل مانک پوری

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں

مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

عباس رضوی

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

جلیل مانک پوری

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

محمد رفیع سودا

اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں

یہ موتیوں کی طرح سیپیوں میں پلتے ہیں

بشیر بدر

کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی

زمین تیری خدا موتیوں سے نم کر دے

بشیر بدر

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

میر تقی میر

ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے

ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے

نصیر احمد ناصر

آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم

میری مے خواری ابھی تک راز ہے

اسرار الحق مجاز

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا

تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

جلیل مانک پوری

آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں

مہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں

گلزار

نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کر

نہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

اک شرح حیات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری

میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی

بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے

بشیر بدر

دیکھی ہیں بڑے غور سے میں نے وہ نگاہیں

آنکھوں میں مروت کا کہیں نام نہیں ہے

جلیل مانک پوری

لوگ کرتے ہیں خواب کی باتیں

ہم نے دیکھا ہے خواب آنکھوں سے

صابر دت

آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر

دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا

بھارتیندو ہریش چندر

ہم محبت کا سبق بھول گئے

تیری آنکھوں نے پڑھایا کیا ہے

جمیلؔ مظہری

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

محسن نقوی

دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں

نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو

صوفی تبسم

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں

اک لہر سی ہر دم رہتی ہے

رسا چغتائی

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

خواجہ میر درد