Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

منزل پر اشعار

منزل کی تلاش وجستجو

اور منزل کو پا لینے کی خواہش ایک بنیادی انسانی خواہش ہے ۔ اسی کی تکمیل میں انسان ایک مسلسل اور کڑے سفر میں سرگرداں ہے لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ مل جانے والی منزل بھی آخری منزل نہیں ہوتی ۔ ایک منزل کے بعد نئی منزل تک پہنچنے کی آرزو اور ایک نئے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ منزل اور سفر کے حوالے سے اور بہت ساری حیران کر دینے والی صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔

ہم رہروان شوق ہیں منزل کی فکر کیا

لے جائیں نقش پا ترے ہم کو جہاں کہیں

سید غیاث الدین سلیم

غرض رہی نہ کبھی منزلوں سے کوئی ہمیں

ہمیشہ اپنے ہی اندر سفر ہمارا ہوا

ظفر اقبال

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل

ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض

پہلے تلاش کیجئے منزل کی رہ گزر

پھر سوچیے کہ راہ میں دیوار کون ہے

گووند گلشن

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض

راستے بھر مری ہم سفری کا دم بھرتے رہے

اپنی منزل پہ پہنچتے ہی پرائے ہوئے لوگ

کاشف سید

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامہ اقبال

میں نے منزل کی دعا مانگی تھی

میری رفتار بڑھا دی گئی ہے

ندیم بھابھہ

کون رہتا ہے سفر میں عمر بھر

مستقل کوئی ٹھکانا چاہیئے

اونیش تریویدی ابھے

تری نظروں سے گزری رہ گزر بھی

ہزاروں منزلوں کا راستہ ہے

رینو نیر

میں سدرۃ المنتہیٰ پہ آ کے رکی ہوئی ہوں

اب آگے جو بھی کرے گا میرا خدا کرے گا

فاطمہ نوشین

منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری

ہم سے ملتا ہے منزلوں کا پتہ

اور خود بے نشان ہیں ہم لوگ

مشتاق نقوی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

منزل ملی مراد ملی مدعا ملا

سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا

سیماب اکبرآبادی

فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے

جا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھے

جگر مراد آبادی

وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں

سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

افتخار عارف

تم خود ہی چلے آؤ گے شاید سر منزل

اک راہ نکالی ہے مری در بدری نے

شہاب سرمدی

اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا

عمر بھر جس کا راستا دیکھا

ناصر کاظمی

محبت آپ ہی منزل ہے اپنی

نہ جانے حسن کیوں اترا رہا ہے

مظہر امام

کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے

قصری کانپوری

منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے

اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں

سید احتشام حسین

ظلمت میں بھی رسائیٔ منزل کا ہے یقیں

مشعل دکھا رہے ہیں ترے نقش پا مجھے

ہینسن ریحانی

ہر راستے سے منزل ہستی ہے بہت دور

جائے گا مرے ساتھ غم یار کہاں تک

تابش دہلوی

نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل

سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں

نہ تو رنج و غم سے ہی ربط ہے نہ ہی آشنائے خوشی ہوں میں

مری زندگی بھی عجیب ہے اسے منزلوں کا پتا نہیں

سلیم صدیقی

مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی

میں کہ جب گرد سفر سے نکلا

اختر امام رضوی

منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر

ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا

ریشمہ ناہید ریشم

کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ

زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو

فضیل جعفری

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز

مجھے آ گیا یقیں سا کہ یہی ہے میری منزل

سر راہ جب کسی نے مجھے دفعتاً پکارا

شکیل بدایونی

رستوں کے پیچ و خم نے کہیں اور لا دیا

جانا ہمیں جہاں تھا یہ منزل نہیں ہے وہ

عالم خورشید

جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

بشیر بدر

میری تقدیر میں منزل نہیں ہے

غبار کارواں ہے اور میں ہوں

نامعلوم

چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم

یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ

انور سدید

سفر کا حوصلہ کافی ہے منزل تک پہنچنے کو

مسافر جب اکیلا ہو تو راہیں بات کرتی ہیں

نسیم نکہت

سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر

آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں

عبد الحمید عدم

ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ

سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے

اظہر لکھنوی

چاند ہے تیرا ہم سفر کوئی نہیں ہے راہبر

آگے قدم بڑھا کے رکھ دور کی روشنی نہ دیکھ

شہاب سرمدی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

بہزاد لکھنوی

کس منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم

اے رہروان خاک بسر پوچھتے چلو

ساحر لدھیانوی

راہ بر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں

چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا

آرزو لکھنوی

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

عبد الحمید عدم

حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے

جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

مصحفی غلام ہمدانی

خود بخود راہ لئے جاتی ہے اس کی جانب

اب کہاں تک ہے رسائی مجھے معلوم نہیں

محمد اعظم

پلٹ آتا ہوں میں مایوس ہو کر ان مقاموں سے

جہاں سے سلسلہ نزدیک تر ہوتا ہے منزل کا

ابر احسنی گنوری
بولیے