Jaleel Manikpuri's Photo'

جلیل مانک پوری

1866 - 1946 | حیدر آباد, ہندوستان

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں

اب کی پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا

کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا

وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے

لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

حال تم سن لو مرا دیکھ لو صورت میری

درد وہ چیز نہیں ہے کہ دکھائے کوئی

کچھ اس ادا سے آپ نے پوچھا مرا مزاج

کہنا پڑا کہ شکر ہے پروردگار کا

you inquired how I was in such an artful way

except for 'God is kind' there is little I could say

you inquired how I was in such an artful way

except for 'God is kind' there is little I could say

حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے

تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے

جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

the wishes of my saaqii I will not ignore

the vow of abstinence I take, will forthwith abjure

the wishes of my saaqii I will not ignore

the vow of abstinence I take, will forthwith abjure

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار

کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے

کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے

آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار

لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف

آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ

سب کچھ ہم ان سے کہہ گئے لیکن یہ اتفاق

کہنے کی تھی جو بات وہی دل میں رہ گئی

بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئی

میں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا

تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

دیکھ لیتے جو مرے دل کی پریشانی کو

آپ بیٹھے ہوئے زلفیں نہ سنوارا کرتے

دیکھی ہیں بڑے غور سے میں نے وہ نگاہیں

آنکھوں میں مروت کا کہیں نام نہیں ہے

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو

جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

اچھی صورت نظر آتے ہی مچل جاتا ہے

کسی آفت میں نہ ڈالے دل ناشاد مجھے

جب انہیں دیکھو پیار آتا ہے

اور بے اختیار آتا ہے

تو نے صورت نہ دکھائی تو یہ صورت ہوگی

لوگ دیکھیں گے تماشا ترے دیوانے کا

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

ان کی صورت دیکھ لی خوش ہو گئے

ان کی سیرت سے ہمیں کیا کام ہے

تجھ سے سو بار مل چکے لیکن

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی

ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

نگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی

چاند سی شکل جو اللہ نے دی تھی تم کو

کاش روشن مری قسمت کا ستارا کرتے

درد سے واقف نہ تھے غم سے شناسائی نہ تھی

ہائے کیا دن تھے طبیعت جب کہیں آئی نہ تھی

صورت تو ابتدا سے تری لا جواب تھی

ناز و ادا نے اور طرح دار کر دیا

ایسے چھپنے سے نہ چھپنا ہی تھا بہتر تیرا

تو ہے پردے میں مگر ذکر ہے گھر گھر تیرا

آتے آتے آئے گا ان کو خیال

جاتے جاتے بے خیالی جائے گی

پینے سے کر چکا تھا میں توبہ مگر جلیلؔ

بادل کا رنگ دیکھ کے نیت بدل گئی

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے

ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

زندگی کیا جو بسر ہو چین سے

دل میں تھوڑی سی تمنا چاہیئے

وہ چاندنی میں پھرتے ہیں گھر گھر یہ شور ہے

نکلا ہے آفتاب شب ماہتاب میں

سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے

چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری

درد بکتا نہیں بازار جہاں میں ورنہ

جان تک بیچ کے لیتا میں ترے دل کے لئے

چھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مشکل کیا ہے

تم مرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر

دید کے قابل حسیں تو ہیں بہت

ہر نظر دیدار کے قابل نہیں

آج آنسو تم نے پونچھے بھی تو کیا

یہ تو اپنا عمر بھر کا کام ہے