Faiz Ahmad Faiz's Photo'

فیض احمد فیض

1911 - 1984 | لاہور, پاکستان

سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے

سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے

89.2K
Favorite

باعتبار

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

what else is there now for me to view

I have experienced being in love with you

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان

بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے

نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں

اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

We will nourish the pen and tablet; we will tend them ever

We will write what the heart suffers; we will defend them ever

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

This world has caused me to forget all thoughts of you

The sorrows of subsistence are more deceitful than you

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن

دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

تیرے قول و قرار سے پہلے

اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر

کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

ساری دنیا سے دور ہو جائے

جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی

جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی

When your thoughts arose, fragrant was the morn

When your sorrow's woke, the night was all forlorn

دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم

کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی

I ventured forth with all my thoughts properly arranged

In her presence when I spoke, the meaning had all changed

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی

جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے

کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے

میرے نالوں کی گم شدہ آواز

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی

Query not my lonely night it came and went away

The heart was consoled and life managed not to fray

جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی

بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

منت چارہ ساز کون کرے

درد جب جاں نواز ہو جائے

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل

ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے

گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے

خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملے

شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی

غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو

سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں

پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

تیز ہے آج درد دل ساقی

تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی

شکر ہے زندگی تباہ نہ کی

ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن

تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں

دل سنبھالے رہو زباں کی طرح

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے