Iftikhar Arif's Photo'

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

افتخار عارف کے شعر

37.2K
Favorite

باعتبار

مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا

مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی

یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ

اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن

راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری

جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ

سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال

ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر

کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے

میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی

وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں

تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا

اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے

اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار

جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ

یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا

مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے

وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت

جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے

اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ

ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا

اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں

نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق

بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا

مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں

ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب

زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی

پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں

ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں

سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے

ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ

اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر

سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں

مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے

عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں