Iftikhar Arif's Photo'

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

18K
Favorite

باعتبار

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے

آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں

پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

جان بہت شرمندہ ہیں

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ

اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا

اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ

سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے

میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں

سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم

ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت

کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت

جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار

جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ

اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا

اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل

نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں

ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے

یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات

سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی

پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں

خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی

ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں

ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے

اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف

ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں

کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب

زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے

وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا

مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر

سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا