Yagana Changezi's Photo'

یگانہ چنگیزی

1884 - 1956 | لکھنؤ, ہندوستان

ممتاز قبل از جدید شاعر جنہوں نے نئی غزل کے لئے راہ ہموار کی۔ مرزا غالب کی مخالفت کے لئے مشہور

ممتاز قبل از جدید شاعر جنہوں نے نئی غزل کے لئے راہ ہموار کی۔ مرزا غالب کی مخالفت کے لئے مشہور

1.15K
Favorite

باعتبار

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں

سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا

مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

کشش لکھنؤ ارے توبہ

پھر وہی ہم وہی امین آباد

درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے

وہم کی کیا دوا کرے کوئی

کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی

کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا

یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی

لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا

سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ

مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے

اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا

گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل

غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا

جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو

کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا

خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا

خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش

اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

مفلسی میں مزاج شاہانہ

کس مرض کی دوا کرے کوئی

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی

دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا

پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے

بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

غالب اور میرزا یگانہؔ کا

آج کیا فیصلہ کرے کوئی

کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو

دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

جھانکنے تاکنے کا وقت گیا

اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا

اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے

کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے

اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں

خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ

ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے

بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا

سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں

آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں

انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے

حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس

بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں

اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے

سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے

پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے

دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں

دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ

سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار

مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق

عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ

بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں

یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں

کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا

آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر