Kaif Bhopali's Photo'

کیف بھوپالی

1917 - 1991 | بھوپال, ہندوستان

ممتاز مقبول شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ فلم’پاکیزہ‘ کے گیتوں کے لئے مشہور

ممتاز مقبول شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ فلم’پاکیزہ‘ کے گیتوں کے لئے مشہور

18.2K
Favorite

باعتبار

زندگی شاید اسی کا نام ہے

دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے

بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے

تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج

ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا

امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ

ایک کمی تھی تاج محل میں

میں نے تری تصویر لگا دی

اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی

جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے

ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں

مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے

تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے

تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے

جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی

یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں

کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں

اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح

وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور

اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا

گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو

آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا

trees you may have rooted out, o storms but now this hour

lets see you drop the butterfly thats clinging to the flower

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

پھر یہ بارش مری تنہائی چرانے آئی

جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے

اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے

وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا

دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے

ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے

وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے

چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو

شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں

آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے

آج ہماری عمر بڑھا دی

کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ

ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

مت دیکھ کہ پھرتا ہوں ترے ہجر میں زندہ

یہ پوچھ کہ جینے میں مزہ ہے کہ نہیں ہے

اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خط

خون سے کیوں تحریر نہیں ہے

چار جانب دیکھ کر سچ بولئے

آدمی پھرتے ہیں سرکاری بہت

مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو

مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں

مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو

اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے

ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل

تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے

تو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے

ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں

الجھنیں فکریں قیاس آرائیاں

چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے

اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ

میں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا

دور تک مجھ کو اک آواز بلانے آئی