Mohsin Naqvi's Photo'

محسن نقوی

1947 - 1996 | ملتان, پاکستان

مقبول پاکستانی شاعر، کم عمری میں وفات

مقبول پاکستانی شاعر، کم عمری میں وفات

3.8K
Favorite

باعتبار

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

کون سی بات ہے تم میں ایسی

اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے

یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو

کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے

شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے

گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی

کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو

شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ

چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں

ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل

زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر

وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں

ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے

ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے

ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی

ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے

جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری

پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو

ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں

محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی