٢٠ مشہور دل شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا

محمد رفیع سودا

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

جلیل مانک پوری

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

علامہ اقبال

بت خانہ توڑ ڈالئے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

you may excavate the temple, the mosque you may explode

do not break the heart of man, for this is God's abode

you may excavate the temple, the mosque you may explode

do not break the heart of man, for this is God's abode

حیدر علی آتش

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

a heart O lord if you bestow, one such it should be

that smilingly I may spend my time of misery

a heart O lord if you bestow, one such it should be

that smilingly I may spend my time of misery

داغؔ دہلوی

دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل

ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

آسی غازی پوری

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

it's just a heart, no stony shard; why shouldn't it fill with pain

i will cry a thousand times,why should someone complain?

it's just a heart, no stony shard; why shouldn't it fill with pain

i will cry a thousand times,why should someone complain?

مرزا غالب

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

میر تقی میر

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

احمد فراز

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

نامعلوم

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

نامعلوم

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

مبارک عظیم آبادی

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

میر تقی میر

سینے میں اک کھٹک سی ہے اور بس

ہم نہیں جانتے کہ کیا ہے دل

عیش دہلوی

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

داغؔ دہلوی

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

میر تقی میر

Added to your favorites

Removed from your favorites