Saqi Faruqi's Photo'

ساقی فاروقی

1936 - 2018 | لندن, برطانیہ

ممتاز اوررجحان ساز جدید شاعر ۔ لندن مقیم تھے

ممتاز اوررجحان ساز جدید شاعر ۔ لندن مقیم تھے

یہ کیا طلسم ہے کیوں رات بھر سسکتا ہوں

وہ کون ہے جو دیوں میں جلا رہا ہے مجھے

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا

اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا

کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر

اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے

مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی

تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی

تمام جسم کی عریانیاں تھیں آنکھوں میں

وہ میری روح میں اترا حجاب پہنے ہوئے

میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں

اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے

راستہ دے کہ محبت میں بدن شامل ہے

میں فقط روح نہیں ہوں مجھے ہلکا نہ سمجھ

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر

بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے

جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا

تجھ سے ملنے کا راستہ بس ایک

اور بچھڑنے کے راستے ہیں بہت

جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز

واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی

میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا

مگر خود سے بچھڑ جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے

قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں

تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو

میں اپنے شہر سے مایوس ہو کے لوٹ آیا

پرانے سوگ بسے تھے نئے مکانوں میں

مجھے گناہ میں اپنا سراغ ملتا ہے

وگرنہ پارسا و دین دار میں بھی تھا

میری آنکھوں میں انوکھے جرم کی تجویز تھی

صرف دیکھا تھا اسے اس کا بدن میلا ہوا

بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی

میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا

روح میں رینگتی رہتی ہے گنہ کی خواہش

اس امربیل کو اک دن کوئی دیوار ملے

میری عیار نگاہوں سے وفا مانگتا ہے

وہ بھی محتاج ملا وہ بھی سوالی نکلا

ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے

یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا

تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے

اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے

دل ہی عیار ہے بے وجہ دھڑک اٹھتا ہے

ورنہ افسردہ ہواؤں میں بلاوا کیسا

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا

لوگ لمحوں میں زندہ رہتے ہیں

وقت اکیلا اسی سبب سے ہے

عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے

یہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے

ابھی نظر میں ٹھہر دھیان سے اتر کے نہ جا

اس ایک آن میں سب کچھ تباہ کر کے نہ جا

مجھے سمجھنے کی کوشش نہ کی محبت نے

یہ اور بات ذرا پیچ دار میں بھی تھا

مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے

یہ سوچتا ہوا گرجا بلا رہا ہے مجھے

اس کے وارث نظر نہیں آئے

شاید اس لاش کے پتے ہیں بہت

ڈوب جانے کا سلیقہ نہیں آیا ورنہ

دل میں گرداب تھے لہروں کی نظر میں ہم تھے

ہم تنگنائے ہجر سے باہر نہیں گئے

تجھ سے بچھڑ کے زندہ رہے مر نہیں گئے

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا

میں اپنی آنکھوں سے اپنا زوال دیکھتا ہوں

میں بے وفا ہوں مگر بے خبر نہ جان مجھے

وہ خدا ہے تو مری روح میں اقرار کرے

کیوں پریشان کرے دور کا بسنے والا

مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں

ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے

نئے چراغ جلا یاد کے خرابے میں

وطن میں رات سہی روشنی منایا کر

حادثہ یہ ہے کہ ہم جاں نہ معطر کر پائے

وہ تو خوش بو تھا اسے یوں بھی بکھر جانا تھا

ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس

دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے

خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں

جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا

میں تو خدا کے ساتھ وفادار بھی رہا

یہ ذات کا طلسم مگر ٹوٹتا نہیں

مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا

سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے

وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے

دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے

میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے

جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ملے

صبح تک رات کی زنجیر پگھل جائے گی

لوگ پاگل ہیں ستاروں سے الجھنا کیسا

حیرانی میں ہوں آخر کس کی پرچھائیں ہوں

وہ بھی دھیان میں آیا جس کا سایہ کوئی نہ تھا

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے

مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے

Added to your favorites

Removed from your favorites