Sarvat Husain's Photo'

ثروت حسین

1949 - 1996 | کراچی, پاکستان

783
Favorite

باعتبار

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں

جسے انجام تم سمجھتی ہو

ابتدا ہے کسی کہانی کی

پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کر

اک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی

دو ہی چیزیں اس دھرتی میں دیکھنے والی ہیں

مٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو

سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں

میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں

مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے

ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا

سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں

بچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا

اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیں

تو نہیں خسارے میں میں نہیں خسارے میں

ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو

جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا

بجھی روح کی پیاس لیکن سخی

مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے

ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر

اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا

خوش لباسی ہے بڑی چیز مگر کیا کیجے

کام اس پل ہے ترے جسم کی عریانی سے

اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام

وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی

شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک

کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں

دشت چھوڑا تو کیا ملا ثروتؔ

گھر بدلنے کے بعد کیا ہوگا

میں کتاب خاک کھولوں تو کھلے

کیا نہیں موجود کیا موجود ہے

حسن بہار مجھ کو مکمل نہیں لگا

میں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے

کیوں گرفتہ دل نظر آتی ہے اے شام فراق

ہم جو تیرے ناز اٹھانے کے لیے موجود ہیں

یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں

مجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام

یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر

نئی نئی سی آگ ہے یا پھر کون ہے وہ

پیلے پھولوں گہرے سرخ لبادوں والی

اپنے لیے تجویز کی شمشیر برہنہ

اور اس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا

لے آئے گا اک روز گل و برگ بھی ثروتؔ

باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا

مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سر

کسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں

میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں

اک اژدہا چراغ کی لو کو نگل گیا

سوچتا ہوں دیار بے پروا

کیوں مرا احترام کرنے لگا

تیری آشفتہ مزاجی اے دل

کیا خبر کون نگر لے جائے

عمر کا کوہ گراں اور شب و روز مرے

یہ وہ پتھر ہے جو کٹتا نہیں آسانی سے

میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے

بلا کا رنگ تھا رنگینیٔ قبا سے ادھر

قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا

کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا

صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کا

گل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا

سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہ

انہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا

یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے

اور انتظام مکان و سرا بدلنے لگا

بہت مصر تھے خدایان ثابت و سیار

سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کیے

یہ انتہائے مسرت کا شہر ہے ثروتؔ

یہاں تو ہر در و دیوار اک سمندر ہے