کتاب پر ۲۰ بہترین اشعار

کتاب کو مرکز میں رکھ

کر کی جانے والی شاعری کے بہت سے پہلو ہیں ۔ کتاب محبوب کے چہرے کی تشبیہ میں بھی کام آتی ہے اورعام انسانی زندگی میں روشنی کی ایک علامت کے طور پر بھی۔ ۔ کتاب کے اس حیرت کدے میں داخل ہوئیے اٹھائیے۔

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

علامہ اقبال

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

علم کی انتہا ہے خاموشی

فردوس گیاوی

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے

دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا

بشیر بدر

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

میر تقی میر

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

اعجاز توکل

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

نظیر باقری

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ

میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

جگر مراد آبادی

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا

پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

شکیب جلالی

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

علامہ اقبال

کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سکھائے

کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے

ہستی مل ہستی

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو

جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

نامعلوم

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

غلام محمد قاصر

مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا

مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے

لیاقت جعفری

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا

انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

جگن ناتھ آزاد

کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے

ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے

احمد عقیل روبی