noImage

تاباں عبد الحی

1715 - 1749 | دلی, ہندوستان

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

810
Favorite

باعتبار

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

درد سر ہے خمار سے مجھ کو

جلد لے کر شراب آ ساقی

محبت تو مت کر دل اس بے وفا سے

دل اس بے وفا سے محبت تو مت کر

کئی فاقوں میں عید آئی ہے

آج تو ہو تو جان ہم آغوش

جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے

آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے

محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حال

بے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑے

آتش عشق میں جو جل نہ مریں

عشق کے فن میں وہ اناری ہیں

لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کر

بیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کر

ہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز

اگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا

تم اس قدر جو نڈر ہو کے ظلم کرتے ہو

بتاں ہمارا تمہارا کوئی خدا بھی ہے

برا نہ مانیو میں پوچھتا ہوں اے ظالم

کہ بے کسوں کے ستائے سے کچھ بھلا بھی ہے

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

بلا سے تیری میں ناخوش ہوں یا خوش

ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پر

تری صورت مجھے آتی ہے جب یاد

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

آہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے

دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز

کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب

جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح

منتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح

کر قتل مجھے ان نے عالم میں بہت ڈھونڈا

جب مجھ سا نہ کوئی پایا جلاد بہت رویا

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا

راتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت

مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ

نہ یار اپنا نہ دل اپنا نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

آتا نہیں وہ یار ستم گر تو کیا ہوا

کوئی غم تو اس کا دل سے ہمارے جدا نہیں

قسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں

قاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں

ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتی

کاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوض

کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کر

شاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہو

زاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ

مالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں

دل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی

ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس

جس کا گورا رنگ ہو وہ رات کو کھلتا ہے خوب

روشنائی شمع کی پھیکی نظر آتی ہے صبح

ہے کیا سبب کہ یار نہ آیا خبر کے تئیں

شاید کسی نے حال ہمارا کہا نہیں

رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو

اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے

وہ تو سنتا نہیں کسی کی بات

اس سے میں حال کیا کہوں تاباںؔ

خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کی

جہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہ

ایمان و دیں سے تاباںؔ کچھ کام نہیں ہے ہم کو

ساقی ہو اور مے ہو دنیا ہو اور ہم ہوں

بعد مدت کے ماہرو آیا

کیوں نہ اس کے گلے لگوں تاباںؔ

نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ

عبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے

دنیا کہ نیک و بد سے مجھے کچھ خبر نہیں

اتنا نہیں جہاں میں کوئی بے خبر کہ ہم

زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہے

رشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلا

آئینہ رو بہ رو رکھ اور اپنی چھب دکھانا

کیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں

یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ

تو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔ

مجھ سے بیمار ہے مرا ظالم

یہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ

تاباںؔ زبس ہوائے جنوں سر میں ہے مرے

اب میں ہوں اور دشت ہے یہ سر ہے اور پہاڑ

آئنے کو تری صورت سے نہ ہو کیوں کر حیرت

در و دیوار تجھے دیکھ کے حیران ہے آج

میں تو طالب دل سے ہوں گا دین کا

دولت دنیا مجھے مطلوب نہیں

ہجر میں اس بت کافر کے تڑپتے ہیں پڑے

اہل زنار کہیں صاحب اسلام کہیں

ایک بلبل بھی چمن میں نہ رہی اب کی فصل

ظلم ایسا ہی کیا تو نے اے صیاد کہ بس

آتا ہے محتسب پئے تعزیر مے کشو

پگڑی کو اس کی پھینک دو داڑھی کو لو اکھاڑ

حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخ

کہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کا

تری بات لاوے جو پیغام بر

وہی ہے مرے حق میں روح الامیں

یہاں یار اور بردار کوئی نہیں کسی کا

دنیا کے بیچ تاباںؔ ہم کس سے دل لگاویں

تک رہا ہے یہ کوئی سونے کی چڑیا آ پھنسے

دام سبحہ لے کے زاہد گریۂ مسکیں کی طرح