noImage

تاباں عبد الحی

1715 - 1749 | دلی, ہندوستان

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

284
Favorite

باعتبار

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

درد سر ہے خمار سے مجھ کو

جلد لے کر شراب آ ساقی

محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حال

بے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑے

کئی فاقوں میں عید آئی ہے

آج تو ہو تو جان ہم آغوش

لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کر

بیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کر

محبت تو مت کر دل اس بے وفا سے

دل اس بے وفا سے محبت تو مت کر

ہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز

اگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا

جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے

آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے

ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پر

تری صورت مجھے آتی ہے جب یاد

دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

بلا سے تیری میں ناخوش ہوں یا خوش

کر قتل مجھے ان نے عالم میں بہت ڈھونڈا

جب مجھ سا نہ کوئی پایا جلاد بہت رویا

کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب

جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

آہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے

تم اس قدر جو نڈر ہو کے ظلم کرتے ہو

بتاں ہمارا تمہارا کوئی خدا بھی ہے

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا

راتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا

آتش عشق میں جو جل نہ مریں

عشق کے فن میں وہ اناری ہیں

برا نہ مانیو میں پوچھتا ہوں اے ظالم

کہ بے کسوں کے ستائے سے کچھ بھلا بھی ہے

آتا نہیں وہ یار ستم گر تو کیا ہوا

کوئی غم تو اس کا دل سے ہمارے جدا نہیں

قسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں

قاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں

ہے کیا سبب کہ یار نہ آیا خبر کے تئیں

شاید کسی نے حال ہمارا کہا نہیں

مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ

نہ یار اپنا نہ دل اپنا نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتی

کاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوض

ایمان و دیں سے تاباںؔ کچھ کام نہیں ہے ہم کو

ساقی ہو اور مے ہو دنیا ہو اور ہم ہوں

حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخ

کہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کا

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح

منتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح

آئینہ رو بہ رو رکھ اور اپنی چھب دکھانا

کیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں

کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کر

شاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہو

وے شخص جن سے فخر جہاں کو تھا اب وے ہائے

ایسے گئے کہ ان کا کہیں نام ہی نہیں

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت

تاباںؔ زبس ہوائے جنوں سر میں ہے مرے

اب میں ہوں اور دشت ہے یہ سر ہے اور پہاڑ

ہمارے میکدے میں ہیں جو کچھ کی نیتیں ظاہر

کب اس خوبی سے اے زاہد ترا بیت حرم ہوگا

مجھ سے بیمار ہے مرا ظالم

یہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ

دل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی

ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس

یہ جو ہیں اہل ریا آج فقیروں کے بیچ

کل گنیں گے حمقا ان ہی کو پیروں کے بیچ

تک رہا ہے یہ کوئی سونے کی چڑیا آ پھنسے

دام سبحہ لے کے زاہد گریۂ مسکیں کی طرح

دنیا کہ نیک و بد سے مجھے کچھ خبر نہیں

اتنا نہیں جہاں میں کوئی بے خبر کہ ہم

رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو

اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے

ایک بلبل بھی چمن میں نہ رہی اب کی فصل

ظلم ایسا ہی کیا تو نے اے صیاد کہ بس

وہ تو سنتا نہیں کسی کی بات

اس سے میں حال کیا کہوں تاباںؔ

بعد مدت کے ماہرو آیا

کیوں نہ اس کے گلے لگوں تاباںؔ

نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ

عبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے

جس کا گورا رنگ ہو وہ رات کو کھلتا ہے خوب

روشنائی شمع کی پھیکی نظر آتی ہے صبح

گرم ازبسکہ ہے بازار بتاں اے زاہد

رشک سے ٹکڑے ہوا ہے حجر اسود بھی

یہاں یار اور بردار کوئی نہیں کسی کا

دنیا کے بیچ تاباںؔ ہم کس سے دل لگاویں

آتا ہے محتسب پئے تعزیر مے کشو

پگڑی کو اس کی پھینک دو داڑھی کو لو اکھاڑ

تری بات لاوے جو پیغام بر

وہی ہے مرے حق میں روح الامیں

صحبت شیخ میں تو رات کو جایا مت کر

وہ سکھا دے گا تجھے جان نماز معکوس

خوان فلک پہ نعمت الوان ہے کہاں

خالی ہیں مہر و ماہ کی دونو رکابیاں

خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کی

جہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہ