noImage

تاباں عبد الحی

1715 - 1749 | دلی, ہندوستان

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

599
Favorite

باعتبار

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

درد سر ہے خمار سے مجھ کو

جلد لے کر شراب آ ساقی

کئی فاقوں میں عید آئی ہے

آج تو ہو تو جان ہم آغوش

محبت تو مت کر دل اس بے وفا سے

دل اس بے وفا سے محبت تو مت کر

جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے

آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے

محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حال

بے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑے

لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کر

بیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کر

آتش عشق میں جو جل نہ مریں

عشق کے فن میں وہ اناری ہیں

ہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز

اگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا

ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پر

تری صورت مجھے آتی ہے جب یاد

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

بلا سے تیری میں ناخوش ہوں یا خوش

تم اس قدر جو نڈر ہو کے ظلم کرتے ہو

بتاں ہمارا تمہارا کوئی خدا بھی ہے

دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

آہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے

کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب

جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح

مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ

نہ یار اپنا نہ دل اپنا نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا

راتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا

برا نہ مانیو میں پوچھتا ہوں اے ظالم

کہ بے کسوں کے ستائے سے کچھ بھلا بھی ہے

کر قتل مجھے ان نے عالم میں بہت ڈھونڈا

جب مجھ سا نہ کوئی پایا جلاد بہت رویا

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح

منتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح

آتا نہیں وہ یار ستم گر تو کیا ہوا

کوئی غم تو اس کا دل سے ہمارے جدا نہیں

قسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں

قاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں

رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو

اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے

جس کا گورا رنگ ہو وہ رات کو کھلتا ہے خوب

روشنائی شمع کی پھیکی نظر آتی ہے صبح

ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتی

کاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوض

آئینہ رو بہ رو رکھ اور اپنی چھب دکھانا

کیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں

خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کی

جہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہ

کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کر

شاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہو

وہ تو سنتا نہیں کسی کی بات

اس سے میں حال کیا کہوں تاباںؔ

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت

ایک بلبل بھی چمن میں نہ رہی اب کی فصل

ظلم ایسا ہی کیا تو نے اے صیاد کہ بس

زاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ

مالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں

نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ

عبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے

ہے کیا سبب کہ یار نہ آیا خبر کے تئیں

شاید کسی نے حال ہمارا کہا نہیں

مجھ سے بیمار ہے مرا ظالم

یہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ

یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ

تو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔ

ایمان و دیں سے تاباںؔ کچھ کام نہیں ہے ہم کو

ساقی ہو اور مے ہو دنیا ہو اور ہم ہوں

تاباںؔ زبس ہوائے جنوں سر میں ہے مرے

اب میں ہوں اور دشت ہے یہ سر ہے اور پہاڑ

حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخ

کہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کا

آئنے کو تری صورت سے نہ ہو کیوں کر حیرت

در و دیوار تجھے دیکھ کے حیران ہے آج

غزالوں کو تری آنکھیں سے کچھ نسبت نہیں ہرگز

کہ یہ آہو ہیں شہری اور وے وحشی ہیں جنگل کے

ہجر میں اس بت کافر کے تڑپتے ہیں پڑے

اہل زنار کہیں صاحب اسلام کہیں

دنیا کہ نیک و بد سے مجھے کچھ خبر نہیں

اتنا نہیں جہاں میں کوئی بے خبر کہ ہم

آتا ہے محتسب پئے تعزیر مے کشو

پگڑی کو اس کی پھینک دو داڑھی کو لو اکھاڑ

دل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی

ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس

زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہے

رشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلا

تک رہا ہے یہ کوئی سونے کی چڑیا آ پھنسے

دام سبحہ لے کے زاہد گریۂ مسکیں کی طرح

اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کا

مذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کا

یہ جو ہیں اہل ریا آج فقیروں کے بیچ

کل گنیں گے حمقا ان ہی کو پیروں کے بیچ

نعمت الوان بھی خوان فلک کی دیکھ لی

ماہ نان خام ہے اور مہر نان سوختہ