وصال پر ۲۰ مقبول اشعار

محبوب سے وصال کی آرزو تو آپ سب نے پال رکھی ہوگی لیکن وہ آرزو ہی کیا جو پوری ہو جائے ۔ شاعری میں بھی آ پ دیکھیں گے کہ بچارا عاشق عمر بھر وصال کی ایک ناکام خواہش میں ہی جیتا رہتا ہے ۔ یہاں ہم نے کچھ ایسے اشعار جمع کئے ہیں جو ہجر و وصال کی اس دلچسپ کہانی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے موڑ بھی ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گے ۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

That my love be consummated, fate did not ordain

Living longer had I waited, would have been in vain

That my love be consummated, fate did not ordain

Living longer had I waited, would have been in vain

مرزا غالب

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

امیر مینائی

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

میر تقی میر

گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے

گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

شہزاد احمد

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

مومن خاں مومن

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں

کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی

ملنے کی یہ کون گھڑی تھی

باہر ہجر کی رات کھڑی تھی

احمد مشتاق

وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے

جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا

ساقی فاروقی

جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے

وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز

نوح ناروی

اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے

پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

just one night give these deprived the joy of company

thereafter if you wish merge paradise and purgatory

جلالؔ لکھنوی

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

مضطر خیرآبادی

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

حیدر قریشی

اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے

ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

فضا ابن فیضی

صورت وصل نکلتی کسی تدبیر کے ساتھ

میری تصویر ہی کھنچتی تری تصویر کے ساتھ

نامعلوم

بس ایک لمحہ ترے وصل کا میسر ہو

اور اس وصال کے لمحے کو دائمی کیا جائے

حماد نیازی

وصال یار کی خواہش میں اکثر

چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

عالم تاب تشنہ

وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں

یا رب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

میر حسن

میں اپنے جسم کی سرگوشیوں کو سنتا ہوں

ترے وصال کی ساعت نکلتی جاتی ہے

شہریار

Added to your favorites

Removed from your favorites